بدلنا ہوگا خود ہم کو

یقین مانو کہ جب تک یہ نظام زر نہ بدلے گا
بھیانک مفلسی کی رات کا یہ منظر نہ بدلے گا

اگر بالفرض میں رہبر کسی کو مان لوں تو پھر
ضمانت کون دے کہ راہ میں وہ رہبر نہ بدلے گا؟

جاگیردار، انوسٹر، بھائی و منسٹر، سب کا ہے ایک ہی گھر
عوام جب تک نہ بدلے گی، یہ پورا گھر نہ بدلے گا

مزاج دہر بھی تلخ و ترش کتنا ہی سہی مگر
بدلنا ہوگا خود ہم کو، کوئی آکر نہ بدلے گا

شاعر: نامعلوم

You may also like...

4 Responses

  1. یہ شوق اورذوق بھی رکھتے ہیں آپ بہت خُوب

  2. محمداسد نے کہا:

    @محمد زبیرمرزا: اس نظم کے شاعر اب تک نامعلوم ہیں۔ آپ کو اگر علم ہو تو ضرور بتایئے گا۔

  3. محمد زبیرمرزا نے کہا:

    @محمداسد باوجودتلاش کے شاعرکا نام معلوم نہیں ہوا- کوشش جاری ہے 🙂

  1. 17 اکتوبر 2010

    [...] This post was mentioned on Twitter by Urdublogz.com, Muhammad Asad. Muhammad Asad said: بدلنا ہوگا خود ہم کو http://goo.gl/fb/yYj59 #urdu #pakistan [...]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.