دیکھو دور اک لاش پڑی ہے

دیکھو دور اک لاش پڑی ہے،
چوراہے کے دائیں جانب،
کونے پر سنسان گلی کے،
کچرا کنڈی دیکھ رہے ہو؟

اس کے پاس لہو میں لتھڑی،
خاک آلودہ، بکھری بکھری،
غیر یا اپنا کون ہے جانے!
آؤ دیکھیں اور پہچانیں

نقش مٹا ڈالے گولی نے،
رنگت خون میں ڈوب گئی ہے،
جیب ٹٹولو کیا رکھا ہے؟

یہ تو خون سے تر گجرے ہیں،
دس دس کے دو نوٹ رکھے ہیں،
ہاتھ جو نیچے دبا ہوا ہے،
اس کی گرفت میں کیا رکھا ہے؟

شاید ہے اسکول کا بستہ،
جیب سے یہ کیا جھانک رہا ہے؟

یہ دیکھو اک پرچہ، خط ہے شاید
ٹوٹی پھوٹی سی اردو میں،
رنگ برنگی پنسلوں کے،
سب رنگوں سے لکھا ہوا ہے،

"آج جو بھولے بستہ میرا،
کٹی ہوجائے گی آپ سے،
ٹافی اور بسکٹ بھی لانا،
پیارے ابو جلدی آنا"

شاعر: نامعلوم

You may also like...

4 Responses

  1. شاہدہ اکرم نے کہا:

    کاش کہ بر بریت کرنے والے یہ سب پڑھ پاتے یا یہ سب سوچتے تو ایسا کرنے کی ہِمّت ہی نا کرتے لیکِنِ،،،

  2. عدنان مسعود نے کہا:

    کعبے سے زیادہ حرمت والی چیز آج کراچی کی لہو لہو سڑکوں پر ازراں ہے، اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

  3. شاہد مسعود قاضی ایڈووکیٹ نے کہا:

    یہ پڑھ کر تبصرہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔

  4. سید آصف جلال نے کہا:

    بہت خوبصورت الفاظ اور خیالات کا ملاپ ہے۔۔۔ ؟ اللہ کرے کہ یہ لاشیں گرنا بند ہو (آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.